کامیابی چاہتے ہیں تو خود کو اندر سے بدلیں kamyabi chahty hain to khud ko badlen

کامیابی  چاہتے ہیں تو خود کو اندر سے  بدلیں kamyabi chahty hain to khud ko badlen

کامیابی  چاہتے ہیں تو خود کو اندر سے  بدلیں kamyabi chahty hain to khud ko badlen

کامیابی  چاہتے ہیں تو خود کو اندر سے  بدلیں kamyabi chahty hain to khud ko badlen 

زندگی میں ہم اکثر نا امید ہو  جاتے ہیں ، اگلی  بار جب آپ نا امید ہوں اور اُمید کا ہر دروازہ آپ کو بند لگ رہا ہو تب آپ انڈے کے اندر کسی پرندے کے بچے بارےمیں سوچیں،  اس بچے میں جب جان آتی ہے تب اس کی ہڈیاں بہت کمزور ہوتی ہیں،  اس بچے کو  کیلشیم درکار ہوتا ہے،  کسی  بھی انڈے کے اندر کی سطح میں یہ کیلشیم اور منرلز ہوتے ہیں،  انڈے میں موجودبچہ اسے جذب کرتا ہے اور اس کی جسامت بڑھنے لگتی ہے،جب بچہ بڑا ہوتا ہے تو  اس خول کے اندر اب اس کا جینا ممکن نہیں ہوتا،  جیسے ہمارے بچوں میں  دودھ کے دانت ہوتے ہیں،ایسے ہی  پرندوں کے بچوں میں دودھ کی چونچ ہوتی ہے،   پرندوں کے بچے چونچ سے اس خول کو توڑنا شروع کردیتے ہیں ،یہ خول کیلشیم جذب ہونے کی وجہ سے کمزور ہو چکا ہوتا ہےاور آسانی سے ٹوٹ جاتا ہے،

"اگر انڈے کو باہر سے توڑا جائے تواس میں موجود "زندگی دم توڑ دیتی ہے"جب کہ انڈا خود اندر سے ٹوٹے توایک "زندگی جنم لیتی ہے"مثبت تبدیلی ہمیشہ اندر سے پیدا ہوتی ہے،اس لیے  خود کو اندر سے  بدلیں،

زندگی میں بار بار قدرت  ہمیں اپنے نئے رنگ نئی منزلیں دکھاتی ہے،  نئی منزل کیلئے قدرت ہمیں آزماتی ہے،  وقت کبھی  اچانک مشکل ہوجاتا ہے، حالات سخت ہو جاتے ہیں ہمیں گھٹن محسوس ہوتی ہے،  ہمیں ہر دروازہ  بند لگنے لگتا ہے،  کہیں سے اُمید کی کرن نظر نہیں آتی ،ہم پریشان ہو جاتے ہیں۔

ہم انسانوں میں بھی تقریباً ایک کلو کے قریب  کیلشیم ہوتا ہے، جس کا ننانوے فیصد ہماری ہڈیوں میں ہوتا ہے،  لیکن یہ کیلشیم آپ کو صرف اپنی ٹانگوں پرکھڑا ہونےیا چلنے پھرنے کی قوت دیتا ہے،  مشکل وقت میں نئی منزل کی طاقت کیلئے آپ کو باہر کی قوت درکار ہوتی ہے،  آپ اگر وقت کی سختی برداشت کرتے ہیں تو نئی منزلوں کیلئے کمفرٹ زون کا خول آپ کیلئے کمزور ہو جاتا ہے،  جو لوگ مشکل حالات  کا سامنا نہیں کرتے وقت ان کو آزما کر آگے نکل جاتا ہے،  یہ تب اپنے ہی کمفرٹ زون کے خول میں بندہو کر  رہ جاتے ہیں۔

زندگی میں کامیابی حاصل کرنے  کیلئے   آپ کو خود سے  آگے بڑھنا پڑتا ہے ،  لوگ  آپ کے  ساتھ  اس وقت ملتے   ہیں  جب آپ   کامیاب  ہو جاتے ہیں ،اس لیے  دیر سے بنو  لیکن کچھ  بنو ضرور، کیونکہ  لوگ وقت کے ساتھ  ساتھ خیریت  کی بجائے  حیثیت  پوچھتے ہیں۔

  

Post a Comment

0 Comments