کامیابی کیلئے نا امیدی سے باہر نکلیں kamyabi k leay na umeedi se bahir niklen

کامیابی کیلئے نا امیدی سے باہر نکلیں  kamyabi k leay na umeedi se bahir niklen

کامیابی کیلئے نا امیدی سے باہر نکلیں  kamyabi k leay na umeedi se bahir niklen

کامیابی کیلئے نا امیدی سے باہر نکلیں  kamyabi k leay na umeedi se bahir niklen

وہیل مچھلی دو سو ٹن وزنی لمبی چوڑی  جب سانس لینے کیلئے سطح سمندر پر آتی ہے تو سمجھ آتا ہے کہ سانس  لینا زندگی  میں کتنا اہم ہے،  لیکن بھاری بھر کم وجود  کے ساتھ جب وہیل مچھلی  اٹھائیس کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے اچانک سمندر سے ہوا میں اچھلنے کیلئے باہر نکلتی ہے تو دیکھنے والوں کے دل دہل جاتے ہیں،  آخر کس بات نے وہیل کو  مجبور کیا جو اس دیوہیکل جسم کی توانائی اس بظاہر فضول نظر آتی سرگرمی  پر خرچ کر تی ہے۔

سمندر میں موجود وہیل مچھلی جب ہوا میں اچھلنے کیلئے نکلتی ہے تو اس کے جسم سے لگی جونکیں اور دوسرےکیڑے مکوڑے  صاف ہوجاتے ہیں،  اس سے یہ فائدہ ہوتا ہے  کہ  جب وہیل  دور کے شکار کیلئے اچانک غوطہ لگاتی ہے تو اسے وہ رفتار مل جاتی ہے  جس کی وجہ سے یہ  اوپر سے آکر اپنے شکار کو دبوچ  پاتی ہے ، وہیل   اپنی  طاقت اور شکار کرنے کے ہنر سے  سمندر میں موجود  باقی  جانوروں کو  بتاتی ہے  کہ میں زندگی سے بھرپور کھڑی ہوں ۔

ہماری زندگی میں روزانہ ایک جیسے مسائل، وہی فکریں وہی خوف وہی خواب جو گزرے کل بھی تھے اور آج بھی موجود  ہیں،  ہم نہ گزرے ماہ و سال میں ان کو بدل پائے  نہ ہی آج بدلنے کی کوئی واضح راہ ہمیں اپنے آس پاس نظر آرہی ہو تو بندے کا دل کرتا ہے کہ مچھلی کی طرح سمندر سے اچانک نکل کر ہوا میں قلابازی کھا لے۔

اپنی  زندگی کی  عام روٹین  میں ہم جب  کمفرٹ  زون میں  گرفتار ہوجاتے ہیں تو ہمیں بھی اپنے مقام سے نکل کر اپنی سوچ و عمل کے زاویے بدلنے ہوتے ہیں،  پھر چاہے کیوں نہ  ہمیں  ڈولفن مچھلی کی طرح دور کی منزلوں تک ایسے ہی قلانچیں بھرتے جانا پڑے، بظاہر یہ حرکت فضول سی لگتی ہےلیکن یہ زندگی پرنااُمیدی کے چڑھے خول توڑ دیتی ہے۔

  

Post a Comment

0 Comments