سقراط کون تھا؟سقراط نے زہر کیوں پیاتھا؟؟

سقراط کون تھا؟سقراط نے زہر کیوں پیاتھا؟؟
سقراط کون تھا؟سقراط نے زہر کیوں پیاتھا؟؟

سقراط کون تھا؟سقراط نے زہر کیوں پیاتھا؟؟
سقراط دنیائے فلسفہ کاعظیم اور جلیل المرتبت معلم تھا، جس نے پانچویں صدی قبل مسیح میں یونان میں مغربی فلسفہ کی بنیاد رکھی۔ سقراط 470 سال پہلے یونان کے معروف شہر ایتھنز میں پیدا ہوا۔ اس کی ابتدائی زندگی کے بارے میں تحریری شواہد ناپید ہیں۔

  سقراط کا باپ سنگ تراش اور ماں دایہ تھی۔ دونوں مل کر جو کماتے تھے وہ ان کی گزربسر کے لیے کافی تھا۔سقراط کو نوجوانی میں کبھی فکرمعاش لاحق نہ ہوئی تھی ۔



سقراط کو انہی دنوں ایک کاہنہ نے بشارت دی تھی کہ " سقراط تم ایتھنز کے سب سے بڑے دانا ہو"سقراط کو کاہنہ کی بات پر یقین نہ آیا ، اس نے فیصلہ کیا کہ وہ خود اس بشارت کی تحقیق کرے گا۔ وہ ایتھنز کے سارے بڑے بڑے دانائوں کے پاس گیااور ان سے ایک خاص قسم کے طریقہ کار کے مطابق بحث کا آغاز کیا۔ وہ جہاں جاتا سامعین پر چھا جاتا۔ اس عمل سے ایتھنز کے نام نہاد دانا، بھڑک اٹھے۔انہوں نے سقراط کے خلاف آواز اٹھانا شروع کردی۔

آج کے زمانے میں سقراط کی لکھی ہوئی کوئی کتاب یا تحریر موجود نہیں تاہم اس کے شاگردافلاطون نے اس کے نطریات کو تحریر کی شکل میں دنیاکے سامنے پیش کیاا ور اپنی تحریروں میں اس کے حوالے پیش کیےسقراط کے نظریات کچھ یو ں تھے۔

نیکی آپ ہی اپنا اجر ہےاور بدی آپ ہی اپنی سزا۔
ظلم کرنا ظلم سہنے سے بہتر ہے ۔
بدی کی سزا پانا بچ کر نکل جانے سے بہتر ہے ۔
نیکی علم ہے  اس لیے اس کی تعلیم ہو سکتی ہے ۔

سقراط کے خلاف اس کے مخالفین نے تین الزامات لگائےجن کی وجہ سے سقراط کویونان کی تاریخ کی سب سے بڑی عدالت کا سامنا کرنا پڑاتھا۔یہ شخص ہمارے نوجوانوں‌ کو گمراہ کر رہا ہے۔ یہ ہمارے مقدس دیوتائوں‌ کو نہیں مانتا۔یہ شخص ایک ایسے الگ خدا کا تصور پیش کرتا ہے جسے کسی نے نہیں دیکھا۔

مقدمے کے دن سقراط دوستوں کے ہمراہ عدالت پہنچاپانچ سو لوگوں کی عوامی جیوری اس کے سامنے تھی سقراط کی زندگی اور موت کا فیصلہ ایک دن کے اندر ہونا تھااس کے بعد نہ تو کوئی اپیل کی جاسکتی تھی اور نہ ہی کوئی دوسرا موقع دیا جانا تھا سقراط کو ان سب کے سامنے اپنی صفائی پیش کرنا تھی۔ وہ صفائی کے دوران اپنے علم اور دانائی سے پورے مجمع پر چھا گیا ۔

سقراط نے عوام کو مخاطب کر کے کہا "کیا جیوری میں سے کوئی ایک شخص کہہ سکتا ہے کہ جو الزام اس نے مجھ پر لگایا ہے وہ سچا ہے۔یہ سب جھوٹ بول رہے ہیں اگر یہ لوگ سمجھتے ہیں میں زندہ رہنے کے لیےاپنا سچ چھوڑ دوں گا تو یہ سب بہت بڑی غلط فہمی میں ہیں ۔میں موت سے زیادہ اس بات کی فکر کروں گا کہ جو بات میں کہہ رہا ہوں وہ درست ہے یا نہیں "۔سقراط کافی دیر ایتھنز کے سما ج اور معاشرتی برائیوں پر تنقید کرتا رہا سقراط کی تقریر کے بعد ووٹینگ ہوئی پانچ سو لوگوں میں سے دوسو اسی لوگوں نے اسے مجرم اور دو سو بیس لوگوں نے بے گناہ قرار دیا قانون کے مطابق وہ مجرم ثابت ہو چکا تھا اور اسے اب سزا سنائی جانی تھی ۔

جب سقراط سے پوچھا گیا  تم کیسے مرنا پسند کرو گے تو اس نے کہا " میں حکومت کے خرچ پر ڈنر کرنا چاہتا ہوں"۔ سقراط کو  کہا گیا کہ یا تو شہر چھوڑ دو یا پھر اپنے ہاتھوں سے زہر کا پیالہ پی لو۔ لیکن عوام کی اکثریت کی توقع کے برخلاف سقراط نے شہر نہیں چھوڑا اور زہر کا پیالہ پی کر اپنی جان دے دی ۔ اس دور میں سزائے موت زہر کے ذریعے دی جاتی تھی اور مجرم کو پائزن آف ہام لاک نامی زہر سے خود کشی کرنا پڑتی تھی۔ہام لاک ایتھنز کا سب سےتیز اثر کرنے والازہر تھا۔

ایتھنز میں یونان کا سب سے بڑا تحقیقی ادارہ "اکیڈمی آف ایتھنز "ہے۔آج اس کے داخلی دروازے پر سقراط کا سوچتا مجسمہ نصب ہے۔مجسمے کے پیچھے یونانی دیوی ایتھناکا مجسمہ بھی صاف نظر آتا ہے






Post a Comment

0 Comments