ازدواجی تعلقات کو کیسے اچھا بنائیں- How to make married life better
ازدواجی تعلقات کو کیسے اچھا بنائیں-How to make married life better
تعلیم
کی شرح بڑھنے کے باوجود ازدواجی مسائل میں روز بروز اضافہ ہوتا جا رہا ہے
بعض اوقات یہ مسائل طلاق کا سبب بن جاتے ہیں پاکستان میں بڑھتی ہوئی طلاق کی شرح
میں ایسے مسائل کا ہاتھ ہوتا ہے جنہیں شروع میں معمولی سمجھ کر ان پر دھیان نہیں
دیا جاتا۔ بیوی اور بچوں کے ساتھ تعلقات اور دیگر عزیز و اقارب سے تعلقات میں اس
بات کا امکان پایا جاتا ہے کہ اگر مناسب دلچسپی نہ لی جائے اور اقدامات نہ کیے
جائیں تو علیحدگی اور کشیدگی کا خطرہ بڑھ جاتا ہے ۔ اس خطرہ کو دور کرنے کے لیے
ضروری ہے کہ انسان اپنے گھر کے اندر اور باہر کی زندگی اور مصروفیات میں ایک توازن
برقرار رکھے بصورتِ دیگر نتائج ناکام شادی اور طلاق کی صورت میں نکلتے ہیں۔ گھریلو
اور ازدواجی زندگی کو خوشگوار بنانا زیادہ مشکل کام نہیں آج میں آپ لوگوں کے ساتھ
ایسے اصول شئیر کروں گا جنہیں اپنا کر کوئی بھی انسان ازدواجی اور خاندانی تعلقات
کو مضبوط بنا سکتا ہے۔
ضروری سکلز
وقت کے منظم انداز میں استعمال ، ابلاغ اور مسائل کو بروقت
اور بہتر انداز میں حل کرنا ایسی مہارتیں ہیں جو ازدواجی زندگی میں ہر مرحلے میں
درکار ہوتی ہیں ہم دوسروں کے رویہ کے لیے تو کچھ نہیں کر سکتے لیکن اپنے رویہ کو
تو بہتر بنا سکتے ہیں۔ خصوصاََ ہم اپنا وقت کس طرح مینج کرتے ہیں ہم دوسروں کے
ساتھ کس طرح بات کرتے ہیں اور کس طرح
زندگی کے مسائل اور پریشانیوں سے نمٹتے ہیں۔
طویل مدت پلاننگ
ازدواجی زندگی مختصر مدت کی توجہ نہیں چاہتی بلکہ زندگی بھر
کی توجہ چاہتی ہے ۔ اگر آپ کے گھریلو تعلقات خوشگوارنہ ہوں اور ذہنی سکون میسر نہ
ہو تو زندگی کے دیگر شعبوں میں محنت ، کوشش اور مسائل کا سامنا نہیں کیا جا سکتا ۔
آپ اپنی ازدواجی زندگی میں مختصر مدت اور طویل مدت مسائل کی فہرست بنا لیں جو آپ کو
مسلسل پریشان کر رہے ہیں آپ اس فہرست میں بیوی/میاں، ماں ، باپ کے حوالے سے معملات
نوٹ کر سکتے ہیں ۔ اس کے بعد ان مسائل کا باری باری جائزہ لیں ۔ مختصر مدت کے
مسائل سے شروع کر کے طویل مدت معملات کی جانب آئیں ۔ اس فہرست سے آپ کو اپنی بیوی
اور بچوں کے ساتھ تعلقات کے بارے میں سوچنے کا موقع ملے گا۔ انسان کو چائیےکہ وہ
خیال اور حقیت کے درمیان فاصلے کو مٹائے اور دو الگ الگ دنیائوں میں رہنے سے گریز
کرے۔
ازدواجی و خاندانی زندگی کا رول ماڈل
انسان اپنے بچپن میں اپنے بزرگوں بالخصوص والدین کی محبت ، رہنمائی ، مدد اور تعاون کا
محتاج ہوتا ہے ۔ اس کے بچپن کے تجربات اس کی زندگی کا رخ متعین کرتے ہیں۔ والدین
اور ان کے قریب موجوددوسرے بڑے لوگ انسان کیلئے مثال کا درجہ رکھتے ہیں ۔ اچھائی
اور برائی کی شناخت انہی کے ذریعہ کی جاتی ہے وہ لاشعوری طور پر بچوں کیلئے رول
ماڈل کا درجہ اختیار کر لیتے ہیں۔ اس لیے
انسان کو چاہئے کہ وہ اخلاقی اقدار کے بارے میں تقریریں اور نصحتیں کرنے کے بجائے
عملی طور پر اچھی مثال قائم کرے اور زندگی میں بے جا تنقید ، ڈینگیں مارنے ، بے
حسی اور محبت سے عاری ہونے کا مظاہرہ کرنے سے مکمل طور پر اجتناب کرے ۔ میاں اور
بیوی مختلف معملات میں فرائض اور حقوق کے حوالہ سے ایک دوسرے سے پیار و محبت سے
پیش آ کر اپنا پنا کردار ادا کر سکتے ہیں ورنہ دونوں ایک دوسرے پر الزام لگا کر
اپنی زندگی اجیرن بنا لیں گے ۔
خاندانی نظام میں ہم آہنگی
ایک خاندان کی بقاء کیلئے انسان کو چار سسٹمز کی ضرورت ہوتی
ہے ۔ پہلا: منصوبہ بندی ، دوسرا: رہنمائی، تیسرا:تعلیم و تربیت، چوتھا: مسائل کو
حل کرنا۔اگر انسان کے خاندان میں تعلیم و تربیت کا کوئی نظام نہیں ہے تو پھر مسائل
حل کرنے کی صلاحیتوں کو کیسے نشوونما دیں گے اور اگر آپ کے پاس مسائل حل کرنے اور
کمیونیکیشن کا کوئی نظا م نہیں ہے پھر آپ اخلاق ، اہداف کا چنائو اور ان کے حصول
کی منصوبہ بندی کیسے کریں گے ۔ رہنمائی کیسے کریں گے اور نظم و ضبط کیسے قائم کریں گے ۔ اس لیے ضروری ہے کہ یہ چاروں
نظام ہر سطح پر اکھٹے متعارف کروائے جائیں کیونکہ یہ ایک دوسرے کے بغیر ادھورے
ہیں۔
مستقبل کی منصوبہ بندی
ازدواجی اور خاندانی زندگی میں کامیابی کیلئے ضروری ہے کہ
ایسے وسائل اور اثاثوں کو محفوظ کرنا چاہیے
جو ہمارے لیے آگے چل کر فائدہ مند ثابت ہوں ۔ اگر والدین بچوں کو نظر انداز کرتے
ہیں تو باہمی اعتماد ختم ہو جائے گااور کمیونیکیشن گیپ بڑھ جائے گا ۔ بیٹا باپ سے
ان معملات پر مشورہ نہیں کرے گا جن کیلئے تجربے اور ذہانت کی ضرورت ہوتی ہے۔لیکن
وہ محدود اور جذبات میں رہ کر فیصلے کرے گاجن کے منفی نتائج نکلیں گے ۔
ازدواجی تعلقات میں اور خاندانی رشتوں کو فروغ دینے کیلئے
شارٹ کٹ، منافقت تو شاید عارضی طور پر
کردار کو چھپا دیتے ہیں لیکن آنے والی زندگی میں کوئی بھی بڑی پریشانی یا مصیبت ان
خامیوں کو ظاہر کر دے گی ۔خود غرضی ازدواجی اختلافات اور طلاق کی ایک بڑی وجہ ہے۔ جب بچے چھوٹے ہوتے ہیں تو والدین بچوں کو
دھمکی، خوف او ر لالچ دے کر اپنی بات منوا
لیتے ہیں لیکن یہی بچے جب بڑے ہوتے ہیں تو والدین کی دھمکیاں بے اثر ہو جاتی ہیں
اوروہ نتائج نہیں ملتے جو والدین چاہتے
ہیں ۔ والدین کا کنٹرول بچوں پر بالکل ختم ہو جاتا ہے۔
خاندان کے مقاصد
بہت سے خاندان وقتی فائدے کیلئے متحد ہو جاتے ہیں لیکن اس
اتحاد کے پیچھے ٹھوس اعلیٰ اقدار اور مثبت جذبات نہیں ہوتے اس لیے جب دبائو اور
کشیدگی پیدا ہوتی ہے تو لوگ ایک دوسرے سے لڑنے جھگڑنے لگتے ہیں ۔ایک دوسرے پر کڑی
تنقید کرتے ہیں بعض خاموشی اختیار کر لیتے ہیں ۔ بچے اس پورے عمل کا بغور مشاہدہ
کر رہے ہوتے ہیں کہ ان کے بڑے بزرگ مسائل کو کس طرح حل کرتے ہیں اور دیکھتے ہی
دیکھتے یہ سلسلہ آنے والی نسلوں میں منتقل ہو جاتا ہے۔
ایک آئیدیل خاندان کا مشن سچائی ، نظم و ضبط، خوشی ، محبت
اور آرام کرنے والی جگہ یعنی گھر کی تعمیر ہونی چاہیے، جہاں ہر فرد کو ایسے مواقع
میسر آئیں کہ وہ اپنی ذمہ داری کے ساتھ آزادی اور بہتر انداز میں ایک دوسرے پر انحصار
کریں اور کارآمد اور مفید مقاصد کو حاصل کرے۔

0 Comments